باب الصلوۃ

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - جنت کا دروازہ جس سے نمازی داخل ہو گے۔ "کسی نے بے ریا نمازیں بہت پڑھی ہوں گی اس کو باب الصلوۃ سے ملائک پکاریں گے۔"      ( ١٨٤٩ء، بہشت نامہ، ١٠ )

اشتقاق

عربی زبان میں دو اسما 'باب' اور 'صلوٰۃ' سے مرکب ہے۔ صلوٰۃ کے ساتھ 'ال' بطور سابقہ لگا ہوا ہے لیکن غیر ملفوظ ہے کیونکہ 'ص' شمسی حروف میں سے ہے۔ یہ ترکیب عربی سے اردو میں ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٦٩ء میں "آخرگشت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جنت کا دروازہ جس سے نمازی داخل ہو گے۔ "کسی نے بے ریا نمازیں بہت پڑھی ہوں گی اس کو باب الصلوۃ سے ملائک پکاریں گے۔"      ( ١٨٤٩ء، بہشت نامہ، ١٠ )

جنس: مذکر